نوجوانوں کاجوش! انسان کی زندگی میں یوں تو کئی مراحل آتے ہیں ۔ جیسے بچپن، لڑکپن، جوانی، بوڑھاپا، لیکن انسان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ بھی آتا ہے کہ جب ایک بچہ اپنے بچپن و لڑکپن سے تجاوز کرکے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والا ہوتا ہے، اور شاید یہی مرحلہ انسان کا سب سے حسین ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے خطرناک بھی ہوتا ہے۔ جسے ہم "نوجوانی" کہتے ہیں۔ کیونکہ اس مرحلہ میں انسان کے پا س بہت زیادہ جوش، جذبہ، امنگ اور طاقت ہوتی ہے مگر سمجھ بوجھ میں کافی کمی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس مرحلہ میں کوئی رہنما مل جائے جو اپنی رہنمائی سے اچھی تربیت دے سکے تو یہی نوجوان اپنی کامیابی سے آسمان کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے، بلکہ انقلاب تک برپا کردیتا ہے۔ مگر اگر یہ رہنمائی نہ پاسکے تو یاتو وہ اس دنیا کی بھیڑ میں اپنا مقام اپنا نام ونشان کھو دیتا ہے، یا پھر برائی کے اعلیٰ مقا م تک پہونچ جاتاہے۔ الغرض! نوجوانوں میں وہ جوش وجذبہ ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی تخت وتاج کو ہلا کر رکھ دے مگر بڑوں کی رہنمائی کے بنا نہیں۔ سچ ہے کہ نوجوانوں کو ضرورت ہے بزرگوں کی، میری یہی گزارش ہے بزرگوں سے کہ آپ ہمیشہ ن...
اوّل وآخر جس کی رسالت عرش کا جو مہمان بھی ہے بعد خدا وہ انسانوں میں سب سے بڑا انسان بھی ہے باعث رحمت ذکرہے ان کا اسم گرامی راحتِ جان مدح ِمحمد دل کی تڑپ ہے اور یہی ایمان بھی ہے محسنِ اعظم رحمتِ عالم خلق مجسم حسن اتم شاہِ امم کے بعد بتاؤ اور کوئی انسان بھی ہے دنیا میں ہم اور کسی کی کاہے کو تقلید کریں؟ پاس ہماارے سرور دین کا قول بھی قرآن بھی ہے اپنی خطا پہ ھوکے پشیماں دل سے انہیں آغازتو دین ڈوبنے والے بحرالم میں بچنےکا امکان بھی ہے کیوں نہ لکھیں ہم ان کے قصیدے کیوں نہ پڑھیں ہم ان پہ درود مدحِ شہِ ابرار ہماری بخشش کا سامان بھی ہے ہم بھی تو ہیں اعجاز سرِ فہرست ایسے لوگوں میں کوئی عمل دامن میں نہیں اور جنت کا ارمان بھی ہے