وہابی اور چاروں امام کی تقلید!



وہابی اور چاروں امام کی تقلید!
جب میں پیدا ہوا  تو نا سمجھ ،نادان تھا ،پھر جیسے جیسے بڑا ہوا  سمجھ بوجھ میں اضافہ ہواجب میں دس سال کا ہوا تو مجھے  اس بات کی تلقین کی گئی کہ مجھ پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے میں  اور بڑا ہوا تو دھیرے دھیرے اور باتیں سمجھ میں آنے لگی ۔میں   نے قرآن پڑھنا شروع کیا حدیث بھی پڑھنے لگا اب تک کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔جب میں پڑھائی کے میدان میں ایک زینہ اور پار کیا تو   " فقہ"  سے آمنا سامنا ہوا  ،  میں نے دیکھا کہ اس کتاب کے اندر بہت سارے مسائل درج ہیں  ، اور بارہاں ہم نے یہ عبارت پڑھی کہ یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے، یہ امام مالک کا قول ہے ، یہ امام شافعی کا وقول ہے ، یہ امام احمد بن حمبل کا قول ہے، یہ فلاں اور فلاں کا قول ہے پھر جب  میرا سامنا معاشرے سے ہوا  تو مجھے ایک نئی بات سننے کو ملی جوبات نہ تو قرآن وحدیث میں میں نے پڑھی تھی  اور ناہی میرے مطالعہ میں یہ بات کبھی گزری، وہ یہ کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید کرنا ضروری ہے۔
پھر مجھے خیال آیا کہ میں ایک گنہگار ہوں میرے نامئہ اعمال میں نیکیاں بہت کم ہیں اور گناہوں کا امبار لگا ہے۔مگر امید تو ہے کہ مسلمان ہوں جنت تو ملے گی ایک دن ان شاءاللہ۔
مگر جب سے یہ سنا کہ امام کی تقلید ضروری ہے ۔تو ہم نے کامیابی کیلئے امام کی تقلید کے بارے میں سوچا۔مگر حیرت  ہوئی اس بات سے کہ دل کے دربار  میں سوالوں کے امبار تھے ۔
کیا امام کی تقلید واقعی ضروری ہے؟
چار امام کی تقلید ہی کیوں ؟ جب کہ اور بھی امام آئےتھے اس   جہاں میں۔
ان میں سے کس امام کی تقلید پر کامیابی ملے گی؟
یہ چار امام کس کی تقلید کرتے تھے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔
ان سوالوں نے مجھے پریشان کر رکھا تھا ،آخرکارمیرے دل میں ایک شوق سا پیدا ہوگیا کہ ان اماموں کا مطالعہ کیاجائے ، کیاوجہ ہے کہ صرف یہ چار امام ہی امامِ مقلَد بنے۔
میں نے اماموں کا مطالعہ کیا ان کے اقوال پڑھے ،مگر مجھے تقلید کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی ، پھر میں نے اپنے مطالعہ کا جائزہ لیا اس سے ایک بات بالکل واضح ہو گئی ، کہ چاروں اماموں نے اپنے اپنے انداز میں جلی حرفوں میں یہ لکھ رکھا تھا کہ "اگر ہماری بات رسولﷺ کی بات سے ٹکرا جائے تو ہماری بات کو چھوڑ دو اور  رسولﷺ کی بات کو لے لو " ۔
یہ جان کر مجھے بےحد خوشی ہوئی ،  دماغ کو سکوں ملا ،دل باغ باغ ہو گیا کہ ہمارا فرقہ ہی وہ فرقہ ہے جس کے بارے میں آقائےنامدار ﷺ نے فرمایا تھا  کہ ایک فرقہ جنتی ہے ،ہم ہی وہ جماعت ہیں جو رسولﷺ کے زمانے سے برابر قائم رہے ہیں  ہم ہی وہ جماعت ہیں کہ اگر تقلید ضروری ہے تو چاروں اماموں کی تقلید بیک وقت کرتے ہیں ۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ جماعت کونسی جماعت ہے ؟
جی ہاں ! یہ"  اہل حدیث "  کی جماعت ہے، مگر دشمنوں نے ہمیں ایک نام سے ملقب کردیا ہے، اس نام کی صدا جیسے ہی میرے کانوں تک پہونچی  خوشی کا ٹھکانا نہیں رہا  اللہ کی تعریف بیان کئے بغیر نہیں رہ سکا، کیوں کہ دشمنوں نے اللہ کے پیارے بندوں کو اللہ کے پیارے  نام سے ملقب  کیاتھا۔(الحمدللہ) کیا آپ جاننا چاہتے ہیں وہ نام کیا ہے؟
جی ہاں! وہ نام ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
" وھــــــــــــــــــــــابـــــــــــــــــــــــــــــــــی"
مجھے فخر ہے اپنے وہابی ہونے پر، مجھے فخر ہے اپنے اہل حدیث ہونے پر ، ۔

Popular posts from this blog

نوجوانوں کا جوش!

نعت نبیؐ

عید مبارک